24
دسمبر گزشتہ کچھ سالوں سے مہاجروں کے ثقافتی دن کے حوالے سے منایا جا رہا ہے۔
ثقافتی دن کے حوالے سے سوچا کوئی تحریر لکھوں تو دادا دادی، نانا نانی، والدین اور محلے میں موجود بزرگ حضرات سے ملنے والی معلومات کے نتیجے میں ایک تحریر لکھنے کی کوشش کررہا ہوں۔ لفظ "مہاجر" پانچ حرف سے بنا یہ لفظ خود میں کئی رنج و الم کی داستانیں سمیٹے ہوئے ہے۔ لفظ مہاجر ان لوگوں کے لئے استعمال کیا گیا جن حضرات نے برصغیر کی تقسیم کے بعد اسلام کے نام پر وجود میں آئی مملکت پاکستان کی جانب ہجرت کی لیکن ہجرت کے بعد پاکستان تو آئے لیکن اپنی روایات اور ثقافت کو بھول نہیں پائے وہ لوگ مہاجر کہلائے۔ مہاجر کو پاکستان میں بسنے والی پانچویں قوم کے طور پر شناخت ملی۔ یہ اردو ادب کے محافظ اور پاکستان کی قومی زبان کے امین ہیں۔
جب مہاجروں کے ثقافتی دن کی بات کی جائے تو مہاجر نام کا یہ گلدستہ خود میں ہندوستان کی ثقافت کو سمیٹے ہوئے ہے۔ اس گلدستے میں بہار، یوپی، سی پی، دلی، حیدرآباد، گجرات، مدراس، بمبئی، راجھستان اور گویا پورے برصغیر کے رنگ برنگے پھول گویا پاکستانی مہاجر ثقافت میں جمع ہوگئے۔
لوگوں کی نظر میں شاید مہاجر ثقافت کرتا پاجامہ یا پان کھانے کا نام ہے، لیکن اس کے پرے مہاجر ثقافت نہایت ہی اعلیٰ اقدار کی حامل رہی ہے، اس تحریر کا مقصد بھی یہی ہے کہ ہماری نوجوان نسل بھی اس ثقافت کو پہچانیں کیونکہ اسکی بہت سی چیزیں کمیاب ہوتی جا رہی ہیں
ذیل میں جن چیزوں کا ذکر ہوگا اسے تعصب کی عینک اتار کر دیکھا جائے کیونکہ یہاں لفظ مہاجر اس بات کی پختہ دلیل ہے کہ ہندوستان ہمارا ماضی تھا اور اب پاکستان ہمارا حال و مستقبل ہے۔ اللّٰہ رب العالمین اسکی حفاظت فرمائے۔ آمین
ہماری ہجرت ہی مہاجر ثقافت کی تشکیل کی بنیاد ہے اب اس ثقافت میں کچھ اجزائ مشترک تو کچھ مختلف بھی ہونگے جو ہمیں سرزمین پاکستان سے ملے ہونگے۔
کیونکہ ہندوستان میں ہر جگہ کی اپنی ثقافت ہے جیسا دلی، لکھنو¿ ، حیدرآباد الگ الگ ثقافت کے حامل شہر ہیں لیکن پاکستان مہاجر ثقافت میں تمام اجزائ شامل حال ملینگے۔
مہاجر ثقافت کے کئی پہلو ہیں جس میں رہن سہن، پہناوا، اوڑھنا بچھونا، مشاعرے، سہرے، رخصتی، انداز تخاطب، لب و لہجہ ، لوریاں، روایتی گیت، طعام، تعمیرات، ادب و آداب، اور ہماری ثقافت کی نمایاں شخصیات شامل ہیں
ہماری نمایاں شخصیات میں کچھ نام تحریر کرونگا اور جو نا لکھ سکوں تو اسے وقت کی کمی، تحریر کی زیادتی یا میری لاعلمی جان کر معاف کردیجیے گا۔ 1- بخت خان 2- امیر خسرو 3- سر سید احمد خان 4- مرزا غالب 5- میر تقی میر 6- شبلی نعمانی 7- الطاف حسین حالی 8- محمد حسین آزاد 9- ڈپٹی نذیر احمد 10- لیاقت علی خان 11- مولانا محمد علی جوہر 12- راجا صاحب محمود آباد 13- ابو الحسن اصفہانی 14- حسرت موہانی 15- میر عثمان علی خان اور دیگر حضرات شامل ہیں۔
ہماری تعمیرات کا منفرد پہلو یہی ہے کہ اپنے گھروں میں بزرگوں روایتی حویلیوں اور مکانوں کی نقل دیکھی۔ شہر کی تنگی نے اگر آنگن کو محدود کردیا لیکن دیوڑھی، روشن دان، مچان، دو چھتی، ہاتھ منہ دھونے کے نل کے اطراف بنایا گیا احاطہ جو ہودہ کہلاتا ہے، ہماری تعمیرات میں دلی کی پتلی گلیاں کراچی میں کراچی میں دکھنے کو مل جائیں گی۔ اسکے علاوہ بہار کالونی، کبھی میمن سوسائٹی ، لکھنو¿ سوسائٹی ، کوکن سوسائٹی ، حیدرآباد کالونی، علی گڑھ کالونی، یوپی موڑ، آگرہ تاج کالونی ، گودھرا کالونی اور دہلی کالونی اسی ثقافت کے نقوش ہیں۔ اسی طرح اورنگ آباد سے اورنگی ٹاو¿ن ، امروہہ گراو¿نڈ ، کوکن گراو¿نڈ ، پہاڑ گنج یہاں بھی موجود ہیں۔
ہماری تصانیف بھی ہماری ثقافت کا حصہ ہیں جیسے "غدر" "بیگمات کے آنسو" "دل کی بیپتا" "دلی کا پھیرا" "میرے زمانے کی دلی" انتظار حسین، مشتاق احمد یوسفی، اشرف صبوحی، رئیس امروہوی، محسن بھوپالی، افتخار عالم، عارف شفیق، قر? العین حیدر، شوکت صدیقی، الطاف فاطمہ، فہمیدہ ریاض، جمیل الدین عالی، ولی دکنی، میرا من دہلوی اور مرزا رجب علی بیگ سرور انکے علاوہ اور کئی نام ہیں جن کی تصانیف، ناول، کلام، نثر، مزاح، کالم پڑھ کر ثقافت کا سرور سر چڑھ کر بولتا ہے۔
ادب و آداب کے معاملے میں مہاجر ثقافت بہت ہی بہترین ہے، یہاں بڑوں اور بزرگوں کو سلام کرنے کے ساتھ ساتھ آداب کرنا مہاجر ثقافت کا حصہ ہے۔ مشاعروں میں بھی شاعر اپنے کلام پر ملنے والی داد و تحسین کے جواب میں حاضرین کو آداب کرتا ہے۔
پان کھانا بھی مہاجر ثقافت کا خاصہ رہا ہے، پان مہمان داری کا اہم ترین جز مانا جاتا ہے، پان دان، پان کی پٹاری اور اگال دان کیا کچھ اس ثقافت میں پنہان ہے
ہمارے ثقافتی پکوان میں حیدرآبادی چٹنیاں اور اچار، دلی کی نہاری اور بہاری بوٹی نام سے بتاتے ہیں کہ ہم ہجرت کرکے مہاجروں کے ساتھ پاکستان چلے آئے۔ دلی بریانی، بمبئی بریانی ، حیدرآبادی کھٹی دال، میرٹھ کے کباب، حلیم، قورمہ، کوفتے، شب دیگ، بھگارے بینگن، سنگڑی، کچنار، گوار، بڑیاں، کھنڈویاں، روغنی روٹی، تافتان، شیرمال، بے چھنئیے کی روٹی، شاہی حلیم، شاہی ٹکڑے، جلیبی، امرتی، سموسے، پکوڑے، نمک پارے، اندرسے کی گولیاں (نکتہ دانے)، کھجور کی سونٹھ، بتاشے، کباب مسالے، لونگ جڑے، بھیل پوری، میٹھی نمکین باقرخانی، نان خطائی، سوئیاں، شیر خورمہ، لڈو، مٹکا بریانی، نرگسی کوفتے، نورتن، روغن، جوش، کھچڑا، مرغ مسلم، پسندے، سری پائے، بھنا گوشت، کٹاکٹ، سیخ کباب، دھاگے والے کباب، گولا کباب، ریشمی کباب، بیف بوٹی، روے میدے کے پراٹھے، پوری پراٹھا، بیسنی پراٹھے، دودھ والی روٹی، تک والی روٹی، حلوہ پوری، پوری کچوری، گول گپے، فالودہ، ربڑی، کھیر، رس گلے، رس ملائی اور فیرنی جیسے پکوانوں اور مٹھائیوں نے دسترخوان کو بھی مہاجر ثقافت کی شکل دے دی
ہمارے روایتی گیت، لوریاں اور کہانیاں بھی ثقافت کا حصہ ہیں، جس میں مشہور ایک ہے چھم چھم چھم آٹھ آنے کی چھالیہ آٹھ آنے کا پان بھی شامل ہے۔ اسکے علاوہ شادی بیاہ کے موقع پر سہرے لکھوانا اور اسے فریم کرکے کمرے میں یادگار کے طور پر لگانا میں مہاجر ثقافت کا خاصہ رہا ہے۔ اسکے علاوہ مہاجروں کے دیگر ریتی رواجوں کے تذکرے فاطمہ ثریا بجیا کے ڈراموں اور انور مقصود کے کنز و مزاح کی تحریروں میں بھی شامل ہے
مہاجروں کا انداز تخاطب بھی ثقافت کا حصہ ہے، جیسا کہ میں کی جگہ ہم بہت ہی خوبصورت لگتا ہے چاہے قواعد کی رو سے غلط ہی سہی، آپ جناب کا چلن بھی اسے ثقافت کا خاصہ ہے۔ اب تو شاید بہت ہی کم لوگ واقف ہونگے کہ برادر نسبتی سالے کو اور انکی اہلیہ کو سلج کہا جاتا ہے، آپس میں بیاہنے والے دلہا اور دلہن کے والدین آپس میں سمدھی اور سمدھن کہلاتے ہیں جبکہ انکے گھرانے کو سمدھیانہ کہا جاتا ہے۔ ہمارے تخاطب میں بڑوں بزرگوں کو باوجی، بھائی کے لئے بھیّا، بہن کے لئے آپا، آپی، بجیا، اور بجو پکارے جانے کا رواج آج بھی قائم ہے۔ اسی طرح مہاجروں کی ثقافت میں عرفیت کا ذکر نا کریں تو غلط ہوگا، آج بھی بہت سی خواتین کو آپا منی، آپا چنی، گڑیا آپا، رانی آپا، بےبی، اور مرد حضرات میں منے بھائی، چنو بھائی، منو بھائی، چاند میاں، نواب صاحب کی بازگشت اب بھی سنائی دیتی ہے۔ اسی طرح مہاجروں کے بزرگوں کے چند الفاظ جو یقیناً آپ نے اپنے گھر میں بھی ضرور سنیں ہونگے جیسے دور کے لئے پرے، قریب کے لئے ورے، موہے مطلب میرے، کاہے مطلب کس لئے، کے مطلب کتنے، کیونکر مطلب کیسے اس قسم الفاظ کی باز گشت کانوں میں رس گھول گئی ہوگی۔ اسکے علاوہ دست پناہ مطلب چمٹا، چٹلا مطلب پراندہ، دروازے کے لئے کواڑ، امام دستہ، ہاون دستہ وغیرہ جیسے الفاظ شامل ہیں
مہاجر ثقافت کا ذکر کیا جائے اور اس میں مشاعرہ شامل نا ہو تو مہاجر ثقافت ادھوری ہے۔ ہمارے مشاعروں میں ایک تہذیب اور تمدن کی داستان پنہان ہے، جسکے ادب کے لئے الگ تحریر درکار ہوگی، اسکے علاوہ داستان گوئی، چہار بیت کی محفلیں بھی مہاجر گھرانوں میں سجائی جاتی تھیں۔ اسکے علاوہ اردو میں لکھا شادی کارڈ مہاجر ثقافت کا مظہر ہوا کرتا تھا جو اب انگریزی سے تبدیل کیا جانے لگا ہے۔ شادیوں کے موقع پر باقاعدہ سہرے اور رخصتی لکھوائی اور پڑھی جاتی تھی۔
ہمارے ثقافتی لباس کی فہرست بھی قلیل نہیں، اس میں شیروانی، کرتے پاجامے کے ساتھ شیروانی کالر کی واسکٹ مہاجر لباس کی عکاسی کرتے ہیں۔ جناح کیپ، لیاقت کیپ، دوپلی ٹوپی، رام پوری ٹوپی علیگڑھ کیپ اور ترکوں والی ٹوپی بھی اسی ثقافت کا مظہر ہیں، گویا یہ سب اب متروک ہو چکا ہے لیکن ہماری ثقافت کا حصہ ہے۔
یہ صرف کاوش تھی کہ دریا کو کوزے میں بند کرسکوں لیکن موضوع ایسا چن لیا کہ اس پر مزید لکھ سکتا ہوں۔ خیر کسر اگلی بار کے لئے اٹھا رکھ دی جب پھر قلم اٹھائیں گے پھر لکھیں گے۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭