main header

newspaper

href="https://aghazeinqilabnews.blogspot.com/p/10-04-2023.html">

شہرقائد میں سوئی گیس کا بحران شدت اختیار کرگیا




  کراچی (رپورٹ/ عمران فیروزی)سردیوں کی آمد سے قبل ہی شہر میں سوئی گیس کا بحران شدت اختیار کر گیا ، سوئی سدرن گیس کمپنی کی جانب سے شہر کے مختلف علاقوں میں لوڈشیڈنگ اور کم پریشر سے شہریوں کو نہ صرف مشکلات اور دقت کا سامان کرنا پڑ رہا ہے بلکہ گیس کی لوڈشیڈنگ جانی و مالی نقصانات کا سبب بھی بن رہی ہے۔گیس کی شدید لوڈشیڈنگ اور بحران کی وجہ سے لوگ سیلنڈر استعمال کرنے پر مجبور ہیں جس کی وجہ سے آئے روز سلنڈر دھماکوں سے انسانی جانوں کا ضیاع ہو رہا ہے لوگ جھلس رہے ہیں۔تفصیلات کے مطابق سردیوں کی آمد سے قبل ہی سوئی سدرن گیس کمپنی کی جانب سے شہر کے مختلف علاقوں نارتھ کراچی ، نیو کراچی ، شامان ٹاون ، سرجانی ٹاون ، ناظم آباد ، رضویہ سوسائٹی ، لیاقت آباد، نارتھ ناظم آباد ، فیڈرل بی ایریا ، لانڈھی ، کورنگی ، شاہ فیصل کالونی ، اورنگی ٹاون ، گلستان جوہر ، گلشن اقبال اور اولڈ سٹی ایریاز سمیت دیگر علاقوں میں سوئی گیس کی لوڈشیڈنگ اور کم پریشر کی وجہ سے شہریوں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے جس کی وجہ سے انھیں مہنگے داموں کھانا سمیت دیگر اشیا خرید کر گزارا کرنا پڑ رہا ہے۔علاوہ ازیں دن میں بھی صرف مخصوص اوقات میں ہی گھریلو صارفین کو کھانا پکانے کیلیے گیس فراہم کی جارہی ہے، جس کے باعث ناشتہ، دوپہر کا کھانا اور شام کی چائے بنانے میں صارفین کو پریشانی کا سامنا ہے اور وہ مجبوری میں ہوٹلوں سے سامان خرید کر گزارا کرنے پر مجبور ہیں۔اس حوالے سے شہری حلقوں کا کہنا ہے کہ ابھی تو سردیاں شروع بھی نہیں ہوئی ہیں کہ گیس کی بدترین لوڈشیڈنگ کا سلسلہ شہر بھر میں جاری ہے خصوصا رات گیارہ بجے سے صبح چھ بجے تک سوئی گیس کی لوڈشیڈنگ کی وجہ سے شہریوں کی مشکلات اپنی جگہ لیکن اس دوران شہری اس آس پر ہیں کہ شاید گیس آگئی ہو وہ بار بار گیس کے چولہے کی نوب کھل کر چیک کرتے ہیں اور اس میں کچھ افراد ایسے بھی ہوتے ہیں جو گیس نہ آنے کی وجہ سے چولہے کی نوب بند کرنا بھول جاتے ہیں اور جب صبح سوئی گیس کی فراہمی دوبارہ بحال کی جاتی ہے تو کھلے رہے جانے والے چولہوں سے گیس کا اخراج ہوتا ہے اور ہوا کی کراسنگ (روشن دان) نہ ہونے کی وجہ سے گیس گھر میں بھر جاتی ہے جو کہ کسی طاقتور بم سے کم نہیں ہوتی۔شہریوں کا کہنا ہے کہ ایسی بھی اطلاعات ہیں کہ گھر میں سوئی گیس بھر جانے کا مکینوں کو پتہ چل تو جاتا ہے اور وہ عجلت اور ناسمجھی میں لائٹ جلانے کے لیے بجلی آن کرتے ہیں تو اس کے بٹن میں ہونے والے معمولی سے اسپارک سے بھی ایک دم دھماکے سے آگ بھڑک جاتی ہے لہذا ایسی صورتحال میں شہریوں کو نہ تو بجلی آن کرنا چاہیے اور نہ ہی ماچس بلکہ فوری طور پر گھر کے دروازوں اور کھڑکیوں کو کھول دینا چاہیے۔شہر میں گزشتہ چند ماہ کے دوران گھروں میں سوئی گیس بھر جانے کی وجہ سے نہ صرف کئی دھماکے ہو چکے ہیں بلکہ خاندان کے خاندان بھی اجڑ گئے ہیں ، شہریوں نے سوئی سدرن گیس کمپنی سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ سردیوں میں رات کی لوڈشیڈنگ سے اجتناب برتے کیونکہ سردی سے بچنے لیے شہری اپنے گھروں کی کھڑیاں اور روشندان بھی بند کر دیتے ہیں۔

0/Post a Comment/Comments