
کراچی(سروے:عمران فیروزی) دودھ کی قیمتوں میں ہوش ربا اضافے نے غریبوں کی قوت خرید ختم کردی، چند دکانوں کو سیل کرکے یہ مسئلہ حل نہیں ہوسکتا کیونکہ اس گھناﺅنے عمل میں براہ راست ڈیری فارمرز ملوث ہیں، ایسا معلوم ہوتا ہے کہ شہری انتظامیہ نے سرکاری نرخ سے 80 روپے فی لیٹر زائد وصول کرنیوالی ڈیری مافیا کے آگے گھٹنے ٹیک دیے سرکاری رٹ کی دھجیاں بکھیر کر من مانی قیمت کے ذریعے یومیہ 40 کروڑ روپے ہڑپنے والے ہول سیلرز اور ڈیری فارمرز کے خلاف کسی کارروائی کے بجائے دکانداروں کے خلاف کارروائی کرنے تک محدود ہے، ڈیری مافیا کی ہٹ دھرمیوں کے سدباب کیلئے منظم منصوبہ بندی اور ڈیری فارمز سے دودھ کی سپلائی ہوتی وہاں ہول سیل ریٹ کو ممکن بناکر ہی عوام کو سرکاری ریٹ پر دودھ فراہم کیا جاسکتا ہے ۔کمشنرکراچی نے شہرقائد کی عوام کو ڈیری مافیا کے ہاتھوں بیچ دیا ہے۔کیونکہ شہر قائد میں گزشتہ سال دسمبر میں دودھ کے سرکاری نرخ 120 روپے فی لیٹر مقرر کیے گئے تھے تاہم اس دوران کبھی بھی دودھ مقررہ قیمتوں پر فروخت نہیں کیا گیا اور ہر چند ہفتوں بعد دس بیس روپے فی لیٹر بڑھا کر اسے 200 روپے تک پہنچا دیا گیا اور اس وقت کراچی میں دودھ 200 روپے لیٹر فروخت ہو رہا ہے۔ذرائع نے بتایا کہ گزشتہ روز مذاکرات میں کمشنر کراچی نے ڈیری فارم مالکان کو 170 روپے فی لیٹر تک بڑھانے کا عندیہ دیا تاہم ڈیری مالکان نے اسے مسترد کردیا۔ہفت روزہ آغازانقلاب نے کراچی میں دودھ کی مسلسل بڑھتی ہوئی قیمتوں پر ایک سروے کیا جس میں کراچی کی عوام مسلسل بڑھتی ہوئی قیمتوں سے پریشان ہے۔سلیم نے کہا کہ قیمتوں میں مسلسل اضافے کے بعد اب دودھ خریدنا مشکل ہوگیا ہے۔فوزیہ نے کہا کہ ضلعی انتظامیہ اشیائے خورونوش کی اپنی ہی جاری کی گئی فہرست پر فروخت کو یقینی بنائے تاکہ مہنگائی پر قابو پایا جاسکے۔عذرا نے کہا کہ شہری انتظامیہ اپنے روایتی انداز میں چپ سادھے بیٹھی ہے۔عبدالرحمن نے کہا کہ دکانوں کو سیل کرنے کا کوئی فائدہ نہیں، جرمانے کے دو تین بعد دکانیں دوبارہ کھل جاتی ہیں پھر دکاندار کھلم کھلا دوسو روپے میں فروخت کرتے ہیں۔ خالد نے کہا کہ آج تک دودھ کی قیمتوں کے حوالے سے اپنے مقرر کردہ نرخ پر عمل درآمد نہیں کرواسکی۔ثمینہ نے کہا کہ موسم سرما میں دودھ کی کھپت ٹھنڈے مشروبات‘قلفی‘فالودہ‘لسی کا استعمال کم ہوجاتاہے اس وجہ سے دودھ کی قیمت میں اضافہ بلاجواز ہے۔احمد قاسمی نے کہا کہ شہر میں دودھ 150 سے 200 روپے تک فروخت ہورہا ہے اور کوئی پوچھنے والا نہیں ہے۔فیصل قادری نے کہا کہ کمشنر دکھانے کےلئے دو چار دکانیں سیل کرکے اپنی جیبیں بھرنے میں مصروف ہیں۔بشیر احمد نے کہا کہ کمشنرکراچی کو برطرف کرکے کوئی نیک کمشنر تعینات کیا جائے اور اس نااہل اور نکمے کمشنر سے کراچی کی عوام کو چھٹکارہ دلایا جائے۔دودھ کی مسلسل بڑھتی ہوئی قیمتوں سے شہری، خریدار سراپا احتجاج ہیں اور شہری انتظامیہ ، متعلقہ ادارے افسران ،سب نے چپ سادھ لی ہے۔ڈیری فارمرز نے حسب سابق سرکاری نرخ نامے کو ہوا میں اڑا دیا اور یہ پہلی بار نہیں ہو ا اس سے قبل بھی دودھ فروش مافیا من ما نیاں کرتی آئی ہے اور انتظامیہ بے بس رہی۔ کمشنر کراچی کی جانب سے تاحال کارروائی کی کوئی خبر نہیں اور شائد ہو بھی نہ کیونکہ کمشنر کراچی نے اپنا حصہ لے کرخاموش ہیں۔