ہمارے شہر کے لوگوں کا اب احوال اتنا ہے
کبھی اخبار پڑھ لینا ، کبھی اخبار ہو جانا
صحافت ایک مقدس پیشہ ہے اور اس شعبہ سے وابستہ ہر شخص معتبر ہے، لیکن پاکستان کی تاریخ میں ہر ادوار میں ایسی واقعات رونما ہوتے رہے جہاں صحافت پر قدغن لگانے کی کوششیں ریاست کی جانب سے ہوتی رہیں۔ اس کوشش میں کئی صحافی پابند سلاسل ہوئے، تو کءصحافیوں نے اپنی زندگیوں کو قربان کیا، لیکن حق پر آنچ نا آنے دی۔ ترقیاتی ممالک میں شعبہ صحافت سے تعلق رکھنے والا ہر شخص اتنا معتبر ہوتا ہے کہ بغیر وارنٹ کے نہ صحافی کے گھر کی تلاشی لی جا سکتی ہے اور نا اسے گرفتار کیا جا سکتا ہے، لیکن پاکستان میں شعبہ صحافت سے وابستہ شخص ایک آسان ہدف ہوتا ہے، کیونکہ وہ معاشرے کا آئینہ ہوتا اور اس کا آئینہ سچ دکھاتا ہے، جو کرپٹ، ظالم، بے ایمان، سیاستدان ، بیوروکریٹ اور افسران کو برداشت نہیں ہوتا، اسی طرح مافیا کے ظلم کو بے نقاب کرتا ہے تو مافیا اور سیاسی اور بیوروکریسی اور عوام کے خادم افسران کا ایسا گٹھ جوڑ بنتا ہے جو صحافی کو چکی دو پاٹوں میں پیسنا شروع کردیتا ہے، مافیا کی جانب سے مسلسل دھمکیوں کا سلسلہ اور اس کی شکایات درج کرانے کے باوجود متعلقہ افسران کی جانب سے کارروائی ناپید ہوتی ہے، ماضی قریب میں اور دور حاضر میں بھی ایسے کئی واقعات رونما ہو چکے ہیں جس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ ریاست کی باگ ڈور سنبھالنے والوں کو آزادی اظہار رائے ، یا آزادی صحافت سے تکلیف ہے، کیونکہ انکے کالے کرتوت آئینہ کو کالا کردیتے ہیں اور جب وہ آئینہ ان کی نظر سے گزرتا ہے تو انکی برداشت سے باہر ہوجاتا ہے، ایسی موقعے پر شاعر نے کیا خوب کہا کہ:
اتنا نازک ہے میرے شہر کے حاکم کا مزاج
سچ زرا زور سے بولوں _ تو بدک جاتا ہے
لیکن ریاست سے وابستہ یہ ریاستی غنڈے حق و سچ کے اس لشکر کو کچل کر آگے بڑھ جائیں گے ، نہیں ہرگز نہیں، یہ قربانیاں اور پابند سلاسل دور آمریت میں بھی برداشت کیا گیا لیکن ظلم ڈھانے والے فقط تاریخ کے پنوں میں کہیں گم ہو کر رہ گئے کیونکہ حق و باطل کی جنگ میں باطل کو فنا ہونا ہے، حق نے ہمیشہ رہنا ہے، آپ کے ظلم و ستم اور کی جانے والی سازشیں اور صحافت پر کاری وار ایک خاموش انقلاب کو برپا کر رہے ہیں وہ انقلاب اگر صبر کا باند توڑ کر نکلا تو سب کچھ بہا کر لے جائے گا، اس موقع پر بھی ایک مصرعہ یاد آگیا کہ ہو چکا ہے حادثہ یا حادثہ ہونے کو ہے، صحافیوں کے خلاف جھوٹے مقدمے، صحافیوں کو قتل کی دھمکیاں، صحافیوں کی گرفتاریاں یہ سب آزادی صحافت پر حملہ نہیں، کراچی سے لیکر کشمیر تک تمام پریس کلبز، تمام صحافتی تنظیمیں آج ایک صفحے پر جمع نہ ہوئے تو کل اپنی باری کا انتظار کریں۔
مقامی اخبار کا ایک مقامی رپورٹر ہو یا پھر ملکی سطح پر تجزیہ نگار ہو سب شعبہ مقدس سے وابستہ لوگ معتبر ہیں، میں مانتا ہوں اس شعبہ میں کئی کالی بھیڑیں پوشیدہ ہیں اور انکے خلاف ہمیں ملکر کام کرنے کی ضرورت ہے، نہیں تو یہ ریاست کے تنخواہ دار غنڈے سب کو ایک ہی لاٹھی سے ہانکنے رہیں گے، خدارا مملکت خداداد کے تحفظ کے لئے، ملک میں امن و استحکام کے لئے اپنے بچوں کے مستقبل کے لئے متحد ہو جائیں ، اللّٰہ نے اس قوم کا مستقبل اجتماعیت کے ساتھ جوڑا ہے، آج ہم میں اجتماعیت ختم ہوگئ، اتحاد کمزور پڑ گیا تو دشمن کو ہر سطح پر وار کرنے کا موقع مل گیا، ہمیں اندر سے مضبوط ہونا ہوگا، باہر سے تو انشاءاللہ کوئی پاکستان کا ایک پتھر بھی نہیں ہلا سکتا، ہمیں بنیادیں مضبوط کرنی ہونگیں، کیونکہ ان بنیادوں میں ہمارے اجداد کا لہو اور ہمارا پسینہ شامل ہے، ہم ہر شخص کے خلاف اعلان جہاد کرتے رہیں گے جو اجتماعیت کو نقصان پہنچائے گا، جو مملکت کو نقصان پہنچائے گا۔
دل پر ایک بوجھ تھا کہ کچھ لکھوں پر وقت کی کمی کے باعث اس پر اکتفاءکرتا ہوں، جب دوبارہ قلم پکڑیں گے پھر آگ اگلیں گے تاکہ وہ آگ بری نگاہ اور کالا دل رکھنے والوں کو راکھ کردے۔ آمین
آخر میں بس ایک قطعہ پر تحریر کا اختتام کرتا ہوں کہ
جو سچ کہوں تو برا لگوں
جو دلیل دوں تو ذلیل ہوں
یہ سماج جہل کی زد میں ہے
یہاں بات کرنا حرام ہے۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭