main header

newspaper

href="https://aghazeinqilabnews.blogspot.com/p/10-04-2023.html">

ڈینگی نے شدت اختیار کرلی،اسپتال مریضوں سے بھر گئے


کراچی (رپورٹ:جمیل احمد مدنی )کراچی سمیت سندھ بھر میں مون سون بارشوں کے بعد مچھروں کی بہتات ہوگئی ہے،جس کے نتیجے میں ڈینگی وائرس وبائی صورت اختیار کرتا جارہا ہے، اسپتالوں میں یومیہ درجنوں کیسز رپورٹ ہونے لگے ہیں۔محکمہ صحت سندھ کے مطابق ستمبر کے ابتدائی6روز کے دوران 450 کیسز رپورٹ ہوچکے ۔کراچی سمیت سندھ بھر میں ڈینگی وائرس نے شدت اختیار کرلی ہے، شہر قائد کے اسپتالوں میں ڈینگی بخار کے مریض بھرگئے اور بلڈ بینکس پر میگا یونٹس اور پلیٹی لیٹس کی قلت کا سامنا ہے۔محکمہ صحت سندھ کے اعداد و شمار کے مطابقگزشتہ روزکراچی میں 24 گھنٹوں کے دوران 87 کیسز رپورٹ ہوئے ہیں جبکہ کراچی سمیت سندھ بھر میں 91 کیسز رپورٹ ہوئے، ستمبر کے مہینے میں5 دن کے دوران ڈینگی وائرس کے صوبہ بھر میں 450 کیسز رپورٹ ہوئے، جن میں سے 434 افراد کا تعلق کراچی سے ہے۔محکمہ صحت سندھ کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ اگست کے مہینے میں ایک ہزار 336 کیسز رپورٹ ہوئے تھے جبکہ جون اور جولائی کے دو ماہ میں مجموعی طور پر 672 کیسز رپورٹ ہوئے۔محکمہ صحت سندھ کی جانب سے رپورٹ میں ظاہر کئے گئے کیسز کی تعداد انتہائی کم ہے، شہر کراچی میں روزانہ درجنوں کیسز رپورٹ ہورہے ہیں لیکن محکمہ صحت یا تو ان کیسز کو رپورٹ نہیں کررہا یا یہ کیسز گھروں تک ہی محدود رہتے ہیں۔گزشتہ روز پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے صوبائی وزیر صحت ڈاکٹر عذرا فضل پیچوہو نے بھی کراچی میں ڈینگی کے بڑھتے ہوئے کیسز کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اسپتالوں میں رش بڑھ گیا ہے، کراچی کا انفیکشیئس ڈیزیز اسپتال بھی ڈینگی بخار کے مریضوں سے بھرگیا ہے، تاہم انہوں نے ڈینگی وائرس سے کسی بھی ہلاکت کی تصدیق نہیں کی۔ ان کا کہنا تھا کہ بڑی تعداد میں ڈینگی بخار کے مریض گھروں میں موجود ہیں۔جناح اسپتال میں گزشتہ روز ڈینگی وائرس کے 55 مریض داخل تھے۔ وارڈ 5 کے ڈاکٹر اسسٹنٹ پروفیسر ڈاکٹر عمر سلطان نے بتایا کہ جناح اسپتال کی او پی ڈی میں یومیہ 100 سے زیادہ مریض آتے ہیں تاہم ان میں سے وہ مریض اسپتال داخل کئے جاتے ہیں جو شدید بیمار ہوں، جن میں پلیٹی لیٹس کی تعداد کم ہو یا جنہیں اسپتال داخلے کی ضرورت ہو۔انہوں نے کہا کہ اس وقت بھی جناح اسپتال کے 4 وارڈز میں ہر ایک میں 12 سے 15 ڈینگی کے مریض داخل ہیں، ڈینگی وائرس سے متاثرہ فرد اسی وقت اسپتال آتا ہے جب وہ کریٹیکل ہو یا ڈینگی بخار کی علامات ظاہر ہونا شروع ہوجائیں، بصورت دیگر لوگ گھروں پر خود ہی دوا لے لیتے ہیں، یا گھر کے قریب چھوٹے کلینکس کا رخ کرتے ہیں اس لئے وہ اسپتال تک نہیں آتے۔

0/Post a Comment/Comments