تحریر : محمد عمران فیروزی
اگر ہم 6 ستمبر 1965 کے واقعات کو یاد کرتے ہیں تو دل جذبے سے بھر جاتا ہے اور فوجی جوانوں کی لازوال قربانیوں کی داستانیں آنکھیں نم کردیتی ہیں۔ جنگ ستمبر کا تذکرہ دلوں کو گرماتا ، جوش وجذبے کو ا±بھارتا اور ایمان ویقین کو تازہ کردیتا ہے۔ تاریخ عالم میں کبھی نہ بھولنے والے اس قابلِ فخر دن کے حوالے سے کچھ چیدہ چیدہ نکات آج ہم اپنی تحریر کا حصہ بنارہے ہیں۔
چھ ستمبر کو پاکستان کے بائیس کروڑ عوام یوم دفاع پاکستان مناتے ہوئے اپنے آن قومی ہیروز اور بہادر افواج کی شہادت اور بے مثال قربانیوں کو خراج عقیدت پیش کریں گے۔ جنہوں نے ستمبر1965ءکی جنگ میں اپنی جانوں کا نذرانہ دے کر دشمن کے پاکستان پر قبضے کے ارادے کو خاک میں ملا دیا۔ اس جنگ میں پاکستان کی مسلح افواج کی پشت پر پاکستان کے غیور اور بہادر عوام سینہ تان کر متحد اور بے خوف و خطر کھڑ ے رہے۔
ستمبر1965ءکی جنگ کا سبب بھی ” مقبوضہ کشمیر تنازعہ“ بنا۔ تقسیم ہند کے بعد سے ہی بھارت نے بین الاقوامی برادری کے سامنے کشمیر سے متعلق کیے گئے وعدوں کی خلاف ورزی کی اور مسلسل ایسے اقدامات کیے جو کشمیر کی بین الاقوامی سطح پر متنازعہ حیثیت کے بالکل برعکس تھے۔ ایک طرف بھارت کا بین الاقوامی برادری کے سامنے کشمیر میں استصواب رائے کا وعدہ تو دوسری جانب مقبوضہ کشمیر کو بھارت کے نندا کمیشن رپورٹ پر عملدرآمد کی صورت وفاقی ڈھانچے میں شامل کرکے بھارت کا اٹوٹ انگ قرار دینا اور پھر رن آف کچھ میں پاکستانی علاقے پر بھارت کا حملہ، یہ تمام عوامل ایسے تھے جن کے باعث پاکستان کا جوابی رد عمل ہر صورت لازمی تھا۔
اس وقت بھارتی افواج اور بھارتی حکمرانوں نے یہ منصوبہ تیار کر رکھا تھا کہ وہ صبح کی چائے لاہور پر قبضہ کر کے جم خانہ کلب میں رات کو فتح کا جشن منائیں گے لیکن لاہور میں میجر عزیز بھٹی کی قیادت میں بہادر افواج کے جیالوں نے اپنی جانوں کو قربان کر کے ان کے حملہ کوناکام بنادیا۔ اسی طرح بھارت نے چونڈہ محاذ میں اپنی افواج کے ساتھ حملہ کر کے قبضہ کرنے کی کوشش کی لیکن پاکستان کی بہادر افواج کے جوانوں نے اپنی چھاتی پر بم باندھ کر ان کے درجنوں ٹینکوں کو اڑا دیا اور ان کے حملے کو اپنی عظیم قربانیوں سے ناکام بنا دیا۔
اس کے ساتھ ساتھ پاکستان کے بہادر فضائی افواج نے ائیر مارشل نور خان کی قیادت میں بھارت کے ہوائی اڈوں پر بے مثال دلیری سے پرواز کرتے ہوئے ان کے لڑاکا جہازوں کو پاکستان پر حملہ کرنے سے قبل ہی نیست و نابود کر دیا۔ پاکستان آرمی نے سلیمانکی میں بھی ایک محدود لیکن عسکری اعتبار سے نہایت اہم علاقے پر قبضہ کر لیا۔ سلیمانکی ہیڈ ورکس، پاکستان کا ایک بڑا اور سٹرٹیجک اہمیت کا حامل ہیڈ ورکس ہے۔ دشمن اس پر قبضہ کرنا چاہتا تھا لیکن پاک فوج نے یہاں بھی دشمن کو پسپائی پر مجبور کر دیا اور اس کے40 مربع میل کے علاقہ پر قبضہ کر لیا اور اسی طرح مغرب کی جانب راجستھان کے محاذ پر بھارت کا 1200 مربع میل کا علاقہ زیر قبضہ لا کر جنگ کے اختتام تک متواتر جوابی حملوں میں اسے ناکامی سے دوچار کئے رکھا۔
جہاں تک کشمیر کے محاذ کا تعلق ہے وہاں چھمب اور جوڑیاں سیکٹر میں پاکستان آرمی نے بھارتی فوج کو ناکام کیا۔ اس حملے میں بھارتی فوج یوں لڑکھڑا کر بھاگی کہ اپنا اسلحہ و سامان اپنے مورچوں میں ہی چھوڑ گئی۔ بھارتی سینا جتنی تعداد میں اپنی توپیں چھوڑ کر بھاگی اس سے پاکستان نے اپنے توپ خانے کی دو فیلڈ رجمنٹس کھڑی کیں۔ اس طرح پاکستان کے نڈر اور جانباز جوانوں نے اکھنور سیکٹر پر 350 مر بع میل اور کوٹلی سیکٹر میں 16 مربع میل بھارتی علاقے پر قبضہ کیا۔
پاکستانی شہری،1965ءکی جنگ کا غیر جانبداری سے اور غیر جذباتی جائزہ لیا جائے تو یہ بات سامنے آتی ہے کہ بڑے سرکش اورخونخوار شکار کو پاکستان میں چھوٹے سے جال میں آسانی سے قید کر لیا۔ سب کچھ قائد اعظم کے بتائے اصول( ایمان، اتحاد،نظم) پر عمل کرنے سے حاصل ہوا۔کسی بھی زاویہ نگاہ سے دیکھیں تو یہی اصول1965ءکی جنگ میں پاکستان کی کامیابی کامرکز اور محور تھے۔ پاکستانی قوم کی طرف سے ملی یکجہتی، نظریاتی اور جغرافیائی سرحدوں کی حفاظت کی خاطر ہر طرح کا فرق مٹا کر اختلاف بھلا کرمتحد ہو کر دشمن کو ناکوں چنے چبوانے کا بے مثال عملی مظاہرہ تھا۔
اللہ تعالی تمام شہداءکی شہادت کو قبول و منظور فرمائے اور اس اسلام کے قلعہ پاکستان کو محفوظ اور مستحکم بنائے اور دشمنوں سے بچا کر رکھے۔ (آمین)
کِس کی ہمت ہے ہماری پرواز میں لائے کمی
ہم پروازوں سے نہیں حوصلوں سے اڑا کرتے ہیں