صحافت نام ھے سچ و حق بات کہنے لکھنے بولنے بیان کرنے اور سننانے کا اگر کوئی بات کوئی خبر کوئی تجزیہ کوئی تحقیق کوئی جائزہ کوئی خیال حق و سچ سے خالی ھو تو وہ صرف فتنہ و فساد رہ جاتی ھے ایسی خبر احتجاج و مطالبہ جس میں حقائق کو مسخ کردیا جائے اور ذاتی اغراض و مقاصد کو اولیت بخشی جائے وہ صرف اورصرف گمراہی کا پیش خیمہ ھوتی ھے حالیہ دنوں میں تحریک انصاف کے رہنما اور اےآروائی نیوز سے متعلق خبروں کا انبار لگا ھوا ھے۔ شوشل میڈیا میں بناءتحقیق و تصدیق خبریں مطالبے اور احتجاج نظر آرھے ہیں۔ میں بحیثیت صحافی یہی کہوں گا کہ اگر کسی سے سرزش ھوئی ھے تو اس کا تحفظ کرنا اس کے گناہ میں شریک جرم ھونا قرار پائے گا رہی بات اے آروائی نیوز کے وائس پریزیڈینٹ عماد بن یوسف کی تو وہ کسی طور صحافی نہیں البتہ صحافیوں کے معاشی قتل کا سب سے بڑا مجرم ھے اس نے اپنے تلوے چاٹنے والے چند نااہلوں کو پڑوان چڑھایا اور کسی بھی پروفیشنل صحافی کو منصب اعلیٰ پر اپنی سازشوں اور مکاریوں گروپ بندیوں کے ذریعے ٹہرنے نہیں دیا افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ھے کہ اس میں ایسے ملازمین بھی ہیں جو عرصہ دراز سے پی ایف یو جے کے عہدوں پر فائز رھے اور کچھ ہیں ذاتی مفادات کی خاطر ان تمام مستحق صحافیوں کے معاشی قتل کو بھول کر عماد بن یوسف کیلئے آواز بلند کررھے ہیں اور ایسے بھی صحافی تنظیم کے عہدیدار بھی ہیں جنھوں نے ذاتی مفادات کی خاطر قاتلِ معاش صحافی عماد بن یوسف کو کلب میں پروٹوکول دیا یہ اس وقت کی بات ھے جب اےآروائی سے صحافیوں کو ڈاو¿ن سائزنگ کے نام پر نکالا تھا تاکہ خود محفوظ رہ سکیں۔ منافقت و چاپلوسی اس قدر بڑھ چکی ھے کہ میڈیا انڈسٹری تباہ حالی کی طرف بڑھ نہیں بلکہ تباہ ھوچکی ھے اس تباہی میں اخلاقیات رویئے صحافی پروفیشنل ازم سب کی سب تحلیل ھوگئیں۔ عماد بن یوسف اس سے قبل اےآروائی نیٹ ورک کے چینلز اپنی نااہلی بدنظمی اور بدمزاجی کے سبب بند ھوگئے تھے یہ سلمان اقبال کو سوچنا چاہئے کہ اس نے آخر ان لوگوں کو کیوں نکالا جو ادارے سے مخلص سچے تھے جو ابتدائی دنوں کے ساتھی تھے یقیناً ظلم کرنے والا ایک دن اللہ کی پکڑ میں ضرور آتا ھے اللہ جسے پکڑتا ھے وہ دونوں جہاں میں ذلیل و رسوا ٹھرتا ھے۔ مجھے حیرت و تعجب ھوگا کہ اگر کسی بھی صحافتی پلیٹ فارم تنظیم یا گروہ کی جانب سے غیر صحافی کیلئے احتجاج بلند کیا جائے یا مطالبہ کیا جائے ھونا تو یہ چاہئے کہ اس سے اب پوچھا جائے کہ تم اپنے منصب پر رہتے ھوئے اپنے ماتحتوں کیساتھ انتہائی غلیظ الفاظ۔ بد تہذیبی۔ بداخلاقی۔ غرور و تکبر۔ اکڑ و گھمنڈ اور بدکرداری کرتے تھے تب تمہیں اللہ کا خوف یاد نہیں رہتا تھا مجھے تو اس بات پر بھی حیرت ھے کہ مالکان اس قدر غافل بھی رہتے ہیں حقیقت میں عماد بن یوسف اس منصب کا اہل ہی نہیں تھا اور نہ ھے کیونکہ اسے نہ سیاست اور نہ ہی صحافت کی حکمت و دانائی آتی ھے۔ حقیقت تو یہ ھے کہ یہ بندر ھے بندر کے ہاتھ چنا لگ گیا تھا بندر پریشان تھا کہ کھاو¿ں یا ڈالوں۔۔۔۔۔۔ایسے لوگ ھر چینل میں ہیں وہی چینل کامیاب رہتے ہیں جہاں مالکان بھی بڑی گہری نظر سے دیکھتے ہیں افسران کے فیصلوں کو من و عن تسلیم نہیں کرتے بلکہ ایک کمیٹی تشکیل دیتے ہیں تین بار کی سرزش کے بعد نوکری سے برخاست کرتے ہیں کان کے کچے مالکان ایسے عماد بن یوسف کو منصب اعلیٰ پر رکھتے ہیں پھر خود ہی پچھتاتے ہیں کہ کہاں مروا دیا۔۔۔۔۔!!