
کراچی(رپورٹ:شعیب عالم)سرجانی ٹاون میں قبضہ مافیا بے لگام،غیر قانونی تعمیرات کو روکنے والے ہی سرپرستی کرنے لگے۔سرجانی ٹاو¿ن المصطفی کاٹیج کے برابر میں غیر قانونی تعمیر تیزی سے جاری،کراچی ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے سائٹ آفس میں بیٹھے افسران کے بیٹر کی خصوصی ہدایت رات کی تاریکی میں کام کرایا جائے۔رات کے اوقات میں کام کرانے کا مقصد اداروں میں موجود ایماندار افسران سے چشم پوشی ہے۔ایس ایس پی اینٹی انکروچمنٹ سیل کے ہنگامی دورے بھی ان لینڈ گریبرز اور انکے سہولت کاروں کو نا روک سکے، سرجانی ٹاو¿ن فور کے چورنگی مصطفیٰ کاٹیج کے برابر میں ایس ٹی پانچ اور ایف ایل فور پلے گراونڈ پر سرکاری قیمتی اراضی قبضہ مافیا کے چنگل میں،اظہر نامی شخص قیمتی پلاٹوں پر قابض، رات کی تاریکی میں ہنگامی بنیادوں پر تعمیرات جاری ہیں۔دیوار کے تعمیر ہوتے ہی خصوصی ہدایت پر چونا پھیرا جاتا ہے تاکہ دیوار پرانی نظر آئے۔اظہر نامی شخص جو کہ فرنٹ مین کی حیثیت رکھتا ہے جبکہ اسکے عقب میں موجود حاجی دلدار نامی شخص نے اداروں میں موجود افسران کے ضمیروں کا سودا کیا۔حاجی دلدار ماضی میں ایف ایل تین کی قیمتی اراضی پر قبضہ کر چکا ہے، جس کی نشاندہی ادارے نے متعدد مرتبہ کی تھی،حاجی دلدار کے ساتھی و دست راست کے ڈی اے سائٹ آفس میں موجود افسران کے بیٹر رضوان کا کردار بھی انتہائی اہم دیکھا گیا۔ڈی جی کراچی ڈویلپمنٹ اتھارٹی ، ڈائریکٹر اسٹیٹ اینڈ انفورسمنٹ ، ڈی آئی جی ویسٹ زون ، ایس ایس پی اینٹی انکروچمنٹ سیل، دیکھیں کہ آپ کی ناک کے نیچے بیٹھے کرپٹ اور بے ایمان افسران کیسے مملکت کو کروڑوں کا ٹیکہ لگاتے ہیں۔منظم طریقے سے ہر شخص اپنے حصے کی ذمہداری نبھاتا دیکھا گیا، علاقائی پولیس ہو، پراجیکٹ ڈائریکٹر کراچی ڈویلپمنٹ اتھارٹی سائٹ آفس سرجانی شہزاد احمد بھی اپنے حصے کی مٹھائی لیکر خاموش تماشائی،بیٹر رضوان کا کردار بہت اہم دیکھنے میں آیا جس کی جانب سے خبر چلا کر نشاندہی کرنے والے صحافیوں کو خریدنے اور نا بکنے والوں کے خلاف پراپیگنڈہ بھی رضوان کی ذمہداری میں شامل ہے۔حرام کا مال سمیٹ کر افسران کی جیبوں میں انڈیلنا بھی رضوان بیٹر کی ذمہداریوں میں شامل، جبکہ حاجی دلدار نے ماضی کے تجربے سے فائدہ اٹھاتے ہوئے افسران کی قیمت طے کرائی،زرائع سے ملنے والی اطلاعات کے مطابق کل اس پلاٹ میں فیملی بٹھا دی جائے گی، تاکہ ڈیمولش ہونے سے پلاٹ محفوظ ہو سکے۔رات کی تاریکی کے تاریک کام، دن کے اجالوں میں افسران کو نظر آئینگے یا پھر رقم ہر ٹیبل سے ہو کر ڈائریکٹر تک پہنچائی جاتی ہے۔کونسا ادارہ ان قبضہ مافیا کو لگام دے سکے گا جو دور حاضر میں کیڑے لگے زخم کی طرح معاشرے کو اذیت دے رہے ہیں۔قبضہ مافیا کے حوصلے اداروں اور افسران کی کارکردگی اور ضمیر پر سوالیہ نشان ہیں؟مسلسل نشاندہی کے باوجود اعلیٰ افسران کی سکت حرکت سے محرومی بتاتی ہے کہ دال مکمل کالی ہے۔افسران بالا کا کارروائی سے فرار اختیار کرنا شہزاد پی ڈی کے بانیہ کو تقویت بخشتا ہے، کہ پلاٹ کا پیسہ میں نے اٹھایا ہے، کوئی کارروائی نہیں کرسکتا۔سرجانی ٹاو¿ن فور کے چورنگی کے نزدیک ایس ٹی چار اور پانچ پر غیر قانونی تعمیرات رات کے اندھیروں میں جاری و ساری،اسٹیٹ اینڈ انفورسمنٹ کے ہاتھوں ڈیمولش ہونے والا پراجیکٹ مصطفیٰ کاٹیج پر بھی رات کی تاریکی میں مرمتی کام جاری،پراجیکٹ ڈائریکٹر شہزاد اور اسکے کماو¿ پوت رضوان کی مہربانیاں قبضہ مافیا پر جاری، مہربانی کے عیوض نوٹوں کی بارش، اینٹی کرپشن تحقیقات کرے کہ سرجانی ٹاو¿ن میں صرف شہزاد پی ڈی کی تعیناتی کے دوران کروڑوں کی اراضی پر لینڈ گریبرز قابض ہوئے۔جیلانی ٹاو¿ن ، دس کا ون، دس کے پانچ اور دیگر سیکٹروں میں بھی چائنہ کٹنگ پر بلا روک ٹوک تعمیرات جاری و ساری ہیں، ویڈیو میں آپ دیکھ سکتے ہیں کہ علی الصبح قبضہ کئے گئے پلاٹ پر تعمیراتی کام جاری ہے، پلاٹ پر بزرگ شخصیت کو کام کی نگرانی کرتے دیکھا جا سکتا ہے۔زرائع سے ملنے والی مصدقہ اطلاعات کے مطابق دروازے پر پرانا پردہ باندھ کر اندر ٹوٹا پھوٹا سامان بھر دیا گیا ہے، تاکہ قبضہ مضبوط ہوسکے،بغیر چھت کے پلاٹ میں رہائش دکھا کر اداروں کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کا مشورہ بھی قبضہ مافیا کے سہولت کاروں کا ہے۔ ڈی جی کے ڈی اے، ڈائریکٹر اسٹیٹ اینڈ انفورسمنٹ ، ایس ایس پی اینٹی انکروچمنٹ ڈی آئی جی ویسٹ زون، ایس ایس پی ویسٹ، ایس ایچ و سرجانی تمام اداروں کی موجودگی میں قبضہ مافیا کے حوصلے بلند ہیں، انکے بلند حوصلے تمام اداروں کی کارکردگی پر سوالیہ نشان ہیں؟؟؟؟ مزید ان محکمہ میں موجود افسران کی تنخواہیں بھی انہیں کے ٹیکس کے پیسوں سے دی جاتی ہیں، جن کے بچوں کے پاس کھیلنے کے لئے میدان بھی میسر نہیں، پارک بھی میسر نہیں۔قبضہ مافیا کی سرگرمیاں اور اداروں کی ناکامیاں اور ان کی تنخواہیں عام انسان کی جیبوں پر بوجھ ہیں۔ ادارے ختم کردینے چاہئیے کیونکہ انکو ادا ہونے والی تنخواہ حکومت کی خزانے میں محفوظ رہ جائے گی۔