شہرقائد میں بارشوں کے بعدتباہ حال سڑکوں کی حالت مذید ابتر
byaghaz e inqilab news-0
شہر قائد کی مرکزی شاہراہوں سمیت گلی محلے کی سڑکیں حالیہ بارشوں کے بعد سے ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہیں،کراچی میں سڑکوں کی حالت پہلے ہی خراب تھی اور حالیہ بارشوں کے بعد شہر کا انفراسٹرکچر مزید تباہ ہوکر رہ گیا ہے، مرکزی سڑکیں ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہیں جبکہ گلیوں محلوں کی کی سڑکیں تو ناقابل استعمال ہو چکی ہیں۔تین ہٹی سے گرومندر جانیوالے ٹریک پر سڑک کی خراب صورتحال کے باعث ٹریفک معطل ہوگئی ہے ،شہری اپنے طور پر متبادل راستہ اختیار کر رہے ہیں،جہانگیر روڈ پر سڑک کنارے نالے پر کوئی حفاظتی دیوار نہیں ہے، جسکے باعث شادمان نالے جیسا واقعہ ہونے کا خدشہ ہے لیکن انتظامیہ کے سر پر کوئی جوں نہیں رینگ رہی۔حالیہ بارشوں کے بعد مرکزی سڑکوں میں ایم جناح روڈ، یونیورسٹی روڈ، شاہراہ پاکستان، راشد مہناس روڈ سمیت دیگر بڑی اور چھوٹی سڑکیں جگہ جگہ سے ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہوگئی ہیں اور بڑے بڑے گڑھے پڑے ہوئے ہیں جس کی وجہ سے ٹریفک کی روانی بری طرح متاثر ہو رہی ہے۔سرجانی ٹاﺅن، بفرزون، نارتھ کراچی، نیو کراچی ، پاپوش نگر، ناظم آباد،
لیاقت آباد، پی آئی بی کالونی کی گلیوں اور سڑکوں کی عمر ختم ہوچکی ہے، ان پر سفر کرنے سے لگتا ہی نہیں یہ پاکستان کے سب سے بڑے شہر کے علاقوں کی سڑکیں ہیں۔مرکزی سڑکوں کی ابتر صورتحال پر اب تک بلدیہ عظمیٰ کراچی نے استرکاری یا مرمتی کام شروع نہیں کیا۔کئی سالوں سے علاقائی سڑکیں بننا ہی ختم ہوچکی ہیں اور پرانی سڑکیں بارشوں اور دیکھ بھال نہ ہونے سے کھنڈرات میں تبد یل ہوچکی ہیں۔ایک رپورٹ کے مطابق ڈسٹرکٹ ساو¿تھ میں 12 مقامات،ڈسٹرکٹ سٹی میں 15، سینٹرل میں 40، ایسٹ میں 21 ،کورنگی میں 15 ،ویسٹ میں 13 اور ملیر میں 29 مقامات ایسے ہیں جہاں سڑکیں ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہیں۔ ان سڑکوں کی فوری مرمت کیلئے نشاندہی کی گئی ہے۔ماہ اگست میں ایڈمنسٹریٹر کراچی مرتضیٰ وہاب نے جہانگیر روڈ پر مرمتی کام کےلئے دورہ بھی کیا ،مگر افسوس یہ دورہ بھی فوٹو سیشن تک محدود ہوکر رہ گیا ہے مرمتی کام اب تک تا حال نہیں کیا جاسکا۔