
کراچی(رپورٹ:عمران فیروزی)کراچی کے تاجروں اور صنعت کاروں نے ایڈیشنل آئی جی جاوید عالم اوڈھو کے سامنے شہر میں امن و امان کی بگڑتی صورت حال اور وارداتوں سے متعلق شکایتوں کے انبار لگا دیے۔ایڈیشنل آئی جی کراچی جاوید عالم اوڈھو کراچی چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری پہنچے، جہاں صدر کراچی چیمبر آف کامرس محمد ادریس اور دیگر عہدیداروں سے ان کی ملاقات ہوئی۔صدر کراچی چیمبر آف کامرس نے کہا کہ کراچی میں 200 سے زائد ملٹی نیشنل کمپنیاں کام کر رہی ہیں، سندھ کی 95 فیصد آمدنی کراچی سے آتی ہے، شہر کی امن و امان کی صورتحال انتہائی خراب ہے۔محمد ادریس نے کہا کہ رات 12 بجے مارکیٹس اور ہوٹل بند ہونے چاہئیں، مگر وہ کھلے رہتے ہیں، کوئی تو ہے جس کی اجازت سے یہ سب کھلا رہتا ہے، امن و امان خراب ہونے کے باوجود پولیس افسروں کے خلاف کوئی کارروائی نہیں ہوتی۔تاجر رہنما زبیر موتی والا نے کہا کہ 108 تھانوں کے ایس ایچ اوز کیا کر رہے ہیں؟ گلی گلی چھینا جھپٹی ہے، لگتا ہے جان بوجھ کے کراچی کو خراب کیا جا رہا ہے۔زبیر موتی والا نے کہا کہ ہمیں بتایا جائے کیا کراچی کو بند کرنا ہے یہاں سرمایہ کاری نہ کریں؟ایڈیشنل انسپکٹر جنرل جاوید عالم اوڈھو نے کہا کہ کراچی والے اسٹریٹ کرائم سے پریشان ہیں، لیکن سندھ پولیس زیادہ جرائم ہونے سے انکاری ہے۔ کراچی والے اپنے دشمن خود ہیں، تاجر واویلا کرتے ہیں، سنسنی پھیلاتے ہیں، پھر کہتے ہیں سرمایہ کاری نہیں ہوتی، لاہور اور دیگر شہروں میں جرائم زیادہ ہیں، لیکن کراچی والے اپنے پیر پر خود کلہاڑا مارتے ہیں۔کراچی چیمبر آف کامرس میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے اے آئی جی جاوید عالم اوڈھو نے کہا کہ سی پی ایل سی کے مطابق کراچی میں کرائم کے واقعات کم ہوئے ہیں، پچھلے برس 18ہزار گاڑیاں چھینی یا چوری ہوئیں، اس سال تعداد 13 ہزار ہے۔جاوید اوڈھو نے کہا کہ سیف سٹی منصوبہ شہر کی ضرورت ہے، سیلاب متاثرین کو کنٹرول نہ کیا تو مشکلات بڑھیں گی، بزنس کمیونٹیز کمانڈ اینڈ کنٹرول سینٹرز کو فروغ دیں۔اےآئی جی جاوید عالم اوڈھو نے کہا کہ ہم نے بہت جگہ کیمرا سسٹم لگائے جس سے صورت حال بہتر ہوئی ہے۔