کراچی(رپورٹ:عمران فیروزی) صوبائی دارالحکومت کراچی میں 8 ماہ کے دوران اسٹریٹ کرائمز کی 56 ہزار وارداتیں رپورٹ ہوئیں جبکہ 58 افراد جاں بحق ہوئے۔شہرِ قائد میں رواں برس ہونے والے اسٹریٹ کرائمز اور ڈکیتیوں کے دوران ہونے والے جانی و مالی نقصانات کی تفصیلات سامنے آگئی ہیں۔کراچی میں رواں سال اسٹریٹ کرائمز کی 56 ہزار 500 سے زائد وارداتیں رپورٹ ہوئیں، ڈکیتی کے دوران سفاک لیٹروں نے مزاحمت پر 58 شہریوں سے جینے کا حق چھین لیا جبکہ اسٹریٹ کرمنلز کے ہاتھوں 269 افراد زخمی ہوئے۔رپورٹ کے مطابق کراچی شہر میں رواں برس اسٹریٹ کرائم کی وارداتوں کے ذریعے 19 ہزار موبائل فون چھینے گئے ۔کراچی میں اسٹریٹ کرائمز کے دوران چھینی گئی موٹر سائیکلوں کی تعداد 35 ہزار جبکہ 1383 گاڑیاں چوری کی گئیں۔کراچی میں اس سال گھروں میں ڈکیتی کی 303 وارداتوں میں کروڑوں روپے کا سامان لوٹا گیا۔شہر میں جاری ڈاکو راج کے دوران رواں ماہ ستمبر کے پہلے ہفتے میں ڈاکووں نے 11 معصوم نہتے شہریوں کو مزاحمت پر موت کے گھاٹ اتار دیا جبکہ پولیس تاحال کسی ایک بھی شہری کے قاتل کو گرفتار کرنے میں کامیاب نہ ہوسکی۔شہر میں اسٹریٹ کرائمز کی بڑھتی ہوئی وارداتوں پر عوامی حلقوں کی جانب سے مطالبہ زور پکڑ گیا ہے کہ وارداتوں کی روک تھام میں ناکامی پر صرف ایس ایچ اوز کو قربانی کا بکرا نہ بنایا جائے بلکہ ڈویژنل ایس پیز ، ایس پی انویسٹی گیشنز اور ضلع ایس ایس پیز کی بھی پیشہ وارانہ صلاحتیوں کا جائزہ لیکر ان کے خلاف بھی ایکشن لیا جائے۔دوسری جانب کراچی پولیس چیف جاوید عالم اوڈھونے کہا ہے کہ اسٹریٹ کرائمز کی وارداتوں پر قابو پانے کے لیے شاہین فورس کو شہرکے ا±ن مختلف علاقوں میں تعینات کیا جائے گا جہاں اسٹریٹ کرائم کی وارداتیں زیادہ رپورٹ ہورہی ہیں۔کراچی پولیس چیف جاوید عالم اوڈھو نے کہا کہ موبائل فونز چھینے کی وارداتیں شہر میں اہم مسئلہ بن گیا ہے، جرائم عام شہریوں کو جہاں دقت پہنچا رہا ہے وہیں پولیس کے لیے بھی یہ مسئلہ درد سر بناہوا ہے اور اس میں اضافہ ہوا ہے۔