
کراچی (رپورٹ:جمیل احمد مدنی)شہر قائد میں ڈینگی وائرس نے وبائی صورت اختیار کر لی ہے، سندھ گورنمنٹ اسپتال نیو کراچی میں شدید گرمی اور حبس سے ڈینگی مریض بے ہوش ہو گئے میڈیکل اسٹور پر پینا ڈول کا پیکٹ 1200 روپے میں فروخت ہونے لگا۔ تفصیلات کے مطابق ملک بھر میں ڈینگی کے کیسز سامنے آ رہے ہیں تاہم کراچی میں صورت حال تشویش ناک ہو گئی ہے، مریضوں کی بھرمار کی وجہ سے اسپتالوں میں بستر کم پڑ گئے ہیں۔سندھ گورنمنٹ اسپتال نیو کراچی میں ڈینگی بخار میں مبتلا مریض رل گئے، شدید گرمی اور حبس میں ڈینگی کے مریض بے ہوش ہونے کے واقعات بھی سامنے آئے ہیں۔معلوم ہوا ہے کہ سندھ گورنمنٹ اسپتال نیو کراچی میں جنریٹر ہونے کے باوجود انتظامیہ نہیں چلا رہی، جس پر ڈینگی کے شکار مریض اور تیمار داروں نے شدیدغم و غصے کا اظہار کیا۔مریضوں کے تیمار دار موبائل کی لائٹ جلا کر وارڈ میں روشنی کرنے کی کوشش کرتے رہے۔مریضوں نے اسپتال انتظامیہ پر جنریٹر نہ چلانے اور فیول فنڈز میں خود برد کا الزام لگایا، دوسری طرف اسپتال انتظامیہ نے موقف دینے سے انکار کر دیا ہے۔ڈائریکٹر ہیلتھ کراچی نے معاملے کا علم ہونے پر اس کی انکوائری کا حکم دیتے ہوئے متعلقہ ڈی ایچ او سے اس حوالے سے رپورٹ طلب کر لی۔صوبائی محکمہ صحت کے مطابق گزشتہ چوبیس گھنٹوں میں کراچی میں ڈینگی کے مزید 192 کیسز رپورٹ ہوئے، ضلع شرقی سے 45، وسطی سے 26، کورنگی سے 63 کیسز سامنے آئے۔رواں ماہ اب تک کراچی میں 1620 ڈینگی کیسز رپورٹ ہو چکے ہیں، جب کہ سندھ بھر میں رواں سال اب تک ڈینگی کیسز کی تعداد 4230 ہو گئی ہے سندھ سمیت کراچی میں شدید بارشوں کے بعد پانی سے پیدا ہونے والی بیماریاں میں اضافہ ہوگیا ، جس کے باعث بخار سمیت عام ادویات بازار سے غائب ہوگئیں۔کراچی کی مارکیٹ میں بخار سے متعلق میڈیسن کی قلت پیدا ہوگئی ہے۔دکاندار کاکہنا ہے کہ پینا ڈول کا پیکٹ ہول سیل مارکیٹ میں ہزار روپے کا ملنے لگا جبکہ میڈیکل اسٹور پر پینا ڈول کا پیکٹ 1200 روپے میں فروخت ہورہا ہے۔ڈینگی، ملیریا اور وائرل بخار کے بڑھتے ہوئے کیسز کے باعث بروفین ٹیبلٹ اورسیرپ کی بھی مارکیٹ میں کمی ہوگئی ہے۔دکانداروں نے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ ڈائریا سے متعلق میڈیسن بھی کم مل رہی ہے۔یاد رہے کراچی سمیت سندھ میں ڈینگی وائرس کے کیسز میں تیزی سے اضافہ دیکھنے میں آرہا ہے، صوبائی دارالحکومت میں وائرل بیماری کے مزید 192 کیسز سامنے آئے ہیں۔سندھ حکومت نے صوبے میں ڈینگی بخار سے نمٹنے کے لیے اقدامات کرنے کا دعوی کیا ہے جب کہ صوبے کا بیشتر حصہ سیلابی پانی کی زد میں ہے۔