کراچی(اسٹاف رپورٹر) سندھ حکومت کے محکمہ ٹرانسپورٹ کے تحت بنائے جانے والے اورنج لائن منصوبہ چھ سال کی تاخیر کے بعد 10 ستمبر سے اورنگی ٹاو¿ن کے شہریوں کے لیے ایدھی لائن بس سروس شروع کرنے کا اعلان کیا ہے۔ایشیا کی بڑی کچی آبادیوں میں شامل اورنگی ٹاو¿ن میں 10 جون 2016ءکو سابق وزیراعلیٰ سندھ قائم علی شاہ نے عبدالستار ایدھی لائن (اورنج لائن) بس منصوبے کا سنگ بنیاد رکھا اور اسے ایک سال میں مکمل کرنے کا اعلان کیا گیا تھا، لیکن اعلان صرف اعلان رہا اور اب یہ منصوبہ6سال کی تاخیرکے بعد شروع کیا جارہا ہے۔عبدالستار ایدھی لائن (اورنج لائن) بس منصوبے کراچی میں بننے والے بس ریپڈ ٹرانزٹ سسٹم (BRTS) میں یہ سب سے چھوٹا منصوبہ ہے جس کی طوالت صرف 3.9 کلو میٹر ہے۔3 اعشاریہ 9 کلومیٹر، 4 بس ا سٹیشنز، 20بسیں اور اورنگی ٹاو¿ن آفس سے بورڈ آفس تک 2 ارب روپے کی لاگت سے یہ منصوبہ ہے۔جن 50 ہزار شہریوں کے لیے یہ منصوبہ 2017ءمیں مکمل ہونا تھا، وہ 2022ءکے ستمبر کے مہینے میں منصوبہ مکمل ہونے جارہا ہے۔پاکستان پیپلز پارٹی سندھ میں 14سال سے حکومت کر رہی ہے لیکن سندھ حکومت کراچی کے اتنے بڑے علاقے اورنگی ٹاو¿ن کو ایک 3 اعشاریہ 9 کلومیٹر کی بس ریپڈ ٹرانسپورٹ سسٹم تو دور 6سال میں بسیں بھی نہ دے سکی ہے۔دوسری جانب صوبائی وزیر ٹرانسپورٹ شرجیل انعام میمن اورکراچی کے ایڈمنسٹریٹر بیرسٹر مرتضیٰ وہاب نے سوشل میڈیا پر بتایا کہ اورنج لائن بس سروس اورنگی ٹاون سے نارتھ ناظم آباد ایدھی گرین لائن اسٹیشن تک چلائی جا رہی ہے۔اورنج لائن بس کے ڈرائیورز نے نئی ٹیکنالوجی کی بسیں چلانے کی تربیت بھی مکمل کر لی ہے۔بس اسٹیشن پر نصب لفٹس، برقی زینوں اور ٹکٹ گھر کی بھی آزمائشی سروس کی جا رہی ہے۔اورنج لائن بس 10 ستمبر سے اورنگی ٹاو¿ن کے شہریوں کے لیے دستیاب ہو گی۔اورنگی ٹاو¿ن کے شہریوں کا کہنا ہے کہ اورنج لائن بس منصوبہ مکمل ہوجائے تو اورنگی ٹاون کے لاکھوں شہریوں کوسفر کی اچھی سواری میسر آ ئے گی۔