main header

newspaper

href="https://aghazeinqilabnews.blogspot.com/p/10-04-2023.html">

اگر آئندہ دس دن تک بلدیاتی انتخابات کا اعلان نہ کیا تو تاریخی دھرنا ہوگا‘حافظ نعیم الرحمن

 

کراچی ( اسٹاف رپورٹر )امیر جماعت اسلامی کراچی حافظ نعیم الرحمن نے اعلان کیا ہے کہ الیکشن کمیشن نے اگر آئندہ دس دن تک بلدیاتی انتخابات کا اعلان نہ کیا تو سندھ اسمبلی کے سامنے 29روزہ تاریخی دھرنے کی یاد تازہ کردیں گے۔کے الیکٹرک کے ناجائز ٹیکسوں اور فیول ایڈجسٹمنٹ کے نام پر اضافی وصولی کے بل ادا نہ کرنے کے حوالے سے بہت جلد پورے شہر میں عوامی ریفرنڈم کرایا جائے گا ، شہر بھر میں چوکوں اور چوراہوں پر کیمپ لگا ئے جائیں گے، ریفرنڈم کے بعد جماعت اسلامی کے الیکٹرک کی لوٹ مار کے خلاف عوام کے ساتھ کھڑی ہو گی ۔ سیلاب زدگان کے لیے جماعت اسلامی اور الخدمت کی امدادی سرگرمیاں جاری ہیں ، کراچی کے عوام اگلے دس دن ان سیلاب زدگان کے نام کریں جو گھروں سے محروم ہوگئے ہیں۔ متاثرین کے لیے غذائی اجناس دیگر ضروری اشیاءاور نقد رقومات جمع کی جائیں تاکہ متاثرین کی زیادہ سے زیادہ مدد کی جا سکے ۔2010 میں سیلاب آیا تو صرف جماعت اسلامی نے 65ہزار لوگوں کی میزبانی کی تھی۔ آج بھی جماعت اسلامی اور کراچی کے عوام متاثرین کی بھر پور مدد اور دل کھول کر استقبال کریں گے۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے جمعہ کو صوبائی الیکشن کمیشن کے دفتر پر زبردست احتجاجی دھرنے سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔دھرنے میں شہر بھر سے بڑی تعداد میں عوام نے شرکت کی ۔ سندھ حکومت اور الیکشن کمیشن کے خلاف شدید غم و غصے کا اظہار کرتے ہوئے پُر جوش نعرے لگائے اور فوری طور پر بلدیاتی انتخابات کی تاریخ کا مطالبہ کیا ۔ حافظ نعیم الرحمن نے مزید کہا کہ خرم دستگیر سن لیں کہ کے الیکٹرک سے کسی صورت میں بھی دوبارہ معاہدہ نہیں ہونے دیا جائے گا۔کے الیکٹرک کا فوری لائسنس منسوخ کیا جائے اور اس کا فارنزک آڈٹ کیا جائے۔ کراچی پورے ملک کی معیشت چلاتا ہے لیکن یہاں کے تین کروڑ سے زائد عوام بنیادی سہولتوں اور ضروریات سے محروم ہیں ۔ شہر میں کوئی ٹرانسپورٹ کا نظام موجود نہیں ،سڑکیں ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہیں، شہری گڑھوں میں گررہے ہیں۔ عوام بجلی اور پانی سے محروم ہیں ، کے الیکٹرک کو تمام حکومتوں اور حکمران پارٹیوں کی سپورٹ حاصل ہے ، جعلی فیول ایڈجسٹمنٹ کے نام پر اور طرح طرح کے ٹیکسوں کے ذریعے ناجائز وصولی کی جا رہی ہے ،عوام سے زبردستی بھتہ وصول کیا جا رہا ہے اور اس میں نیپرا اور وفاقی حکومت بھی شامل ہے ،حکمران کے الیکٹرک کی دہشت گردی کے ساتھ کھڑے ہیں۔ حکومت، کے الیکٹرک اور نیپرا کا شیطانی اتحاد ہے۔ عوام کو ان ظالموں کے خلاف اُٹھنا ہو گا ، جماعت اسلامی عوام کو تنہا نہیں چھوڑے گی ۔ جبری اور ناجائز وصولی قبول نہیں کی جائے گی ۔خرم دستگیر، مفتاح اسماعیل بتائیں کہ جب ایک ہزار میگا واٹ بجلی فری دے رہے ہیں تو پھر کے الیکٹرک کس وجہ سے چارجز لگارہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ ہم الیکشن کا مطالبہ کراچی کے تمام زبان بولنے والوں کے لیے کررہے ہیںاور اس لیے کررہے ہیں کہ کراچی میںپھر سے تعمیر و ترقی کا سفر شروع ہو۔الیکشن کمیشن نے پیپلز پارٹی کی سندھ حکومت کے ایجنٹ کا کردار ادا کیا اور ایسی رپورٹ بنا کر بھیجی کہ کراچی میں بھی بلدیاتی انتخابات ملتوی کر دیئے گئے ، کراچی کو اس کے بنیادی حق ، آئینی و قانونی حق سے محروم کر دیا گیا ۔سکندر راجا سلطان بتائیں کہ ایک ہی رات میں کس کے دباﺅ کی وجہ سے انتخابات کو ملتوی کیا؟ابتدائی طور پر الیکشن کمیشن کا بیان جاری ہوگیا تھا کہ حیدر آباد ڈویزن میں انتخابات نہیں ہوسکتے لیکن کراچی میں ہوسکتے ہیں۔ بعد میں الیکشن کمیشن نے سندھ حکومت کی ایماءپر کراچی کو بنیادی حق سے محروم کر کے عوام پر شپ خون مارا ہے۔الیکشن کمیشن بتائے کہ ووٹر لسٹیں جعلی کیوں ہیں، پیپلز پارٹی کے سیاسی اور غیر قانونی ایڈمنسٹریٹر کس قانون کے تحت موجود ہے؟ الیکشن کمیشن بتائے کہ کس کے دباو کی وجہ سے ایڈمنسٹریٹر کو معطل نہیں کیا جاتا۔الیکشن اور سیاسی عمل کو جاگیرداروں ،وڈیروں نے یرغمال بنایا ہوا ہے۔اندرون سندھ کے بلدیاتی انتخابات میں بھی الیکشن کمیشن کو یرغمال بنا کر من پسند نتائج حاصل کیے گئے ۔ انہوں نے کہا کہ وزیر اعلی وزیر اعظم کی پشت پناہی کرتے ہیں کہ موسم کی خرابی کی وجہ سے تشریف نہیں لائے۔وزیر اعلی بتائیں کہ جب موسم خراب تھا تو سراج الحق کیسے پہنچ گئے، الخدمت کے رضاکار کیسے پہنچ گئے۔کراچی کے عوام نے سکھر براج کی صفائی کے لیے بھی ٹیکسوں کے پیسے دیے تھے۔وزیر اعلی سندھ بتائے کہ 15 سال میں اندرون سندھ کے لیے کیا کیا۔سکھر بیراج کے66 گیٹ ہیں جن میں سے 11 گیٹ کیوں بند ہیں۔ ڈاکٹر اسامہ رضی نے کہا کہ شہر کراچی کو با اختیار بلدیہ کی ضرورت ہے، مئیر اور چیئر مین کی ضرورت ہے۔ساڑھے تین کروڑ عوام بلدیاتی انتخابات چاہتے ہیں۔الیکشن کمیشن نے غیر جمہوری فیصلہ کرکے عوام کے ارمانوں کا خون کیا ہے اور لٹیروں کی پردہ پوشی کی ہے۔ اہل کراچی کا حق مارا ہے اور سندھ حکومت و پیپلز پارٹی کے آلہ کار ہونے کا ثبوت دیا ہے ۔

0/Post a Comment/Comments