main header

newspaper

href="https://aghazeinqilabnews.blogspot.com/p/10-04-2023.html">

آخری وقتوں کے حکمران و سربراہان

 

حکومت نااہل لوگوں کے سپرد کی جائے گی اور حکمران اور مقتدر لوگ منافق ہوں گے قرآن و احادیث کھول کھول کر بیان کرچکا ھے مزید تجزیہ قرآن و احادیث کے بعد پیش کرتا ھوں۔۔۔ معزز قارئین!! قرآن چند آیات اور چند ایک احادیث پیشِ خدمت ہیں ۔۔ بیشک اللہ تمہیں حکم دیتا ہے کہ امانتیں انہی لوگوں کے سپرد کرو جو ان کے اہل ہیں، اور جب تم لوگوں کے درمیان فیصلہ کرو تو عدل کے ساتھ فیصلہ کیا کرو، بے شک اللہ تمہیں کیا ہی اچھی نصیحت فرماتا ھے بے شک اللہ خوب سننے والا خوب دیکھنے والا ہےo اے ایمان والو! اللہ کی اطاعت کرو اور رسول ( ﷺ ) کی اطاعت کرو اوراپنے میں سے (اہلِ حق) صاحبانِ اَمر کی، پھر اگر کسی مسئلہ میں تم باہم اختلاف کرو تو اسے (حتمی فیصلہ کے لیے) اللہ اور رسول ( ﷺ ) کی طرف لوٹا دو اگر تم اللہ پر اور یومِ آخرت پر ایمان رکھتے ہو، (تو) یہی (تمہارے حق میں) بہتر اور انجام کے لحاظ سے بہت اچھا ہےo کیا آپ نے اِن (منافقوں) کو نہیں دیکھا جو (زبان سے) دعویٰ کرتے ہیں کہ وہ اس (کتاب یعنی قرآن) پر ایمان لائے جوآپ کی طرف اتارا گیا اور ان (آسمانی کتابوں) پر بھی جو آپ سے پہلے اتاری گئیں (مگر) چاہتے یہ ہیں کہ اپنے مقدمات (فیصلے کے لیے) شیطان (یعنی احکامِ الٰہی سے سرکشی پر مبنی قانون) کی طرف لے جائیں حالاں کہ انہیں حکم دیا جا چکا ہے کہ اس کا (کھلا) انکار کر دیں، اور شیطان تویہی چاہتا ہے کہ انہیں دور دراز گمراہی میں بھٹکاتا رہےo اور جب ان سے کہا جاتا ہے کہ اللہ کے نازل کردہ (قرآن) کی طرف اور رسول( ﷺ ) کی طرف آجاؤ تو آپ منافقوں کو دیکھیں گے کہ وہ آپ (کی طرف رجوع کرنے) سے گریزاں رہتے ہیںo (سورۃ النساء، آیت 4/58-61) ۔۔۔۔۔

 اور انہوں نے (دولت و اقتدار کے نشہ میں بدمست ہو کر) اپنی طرف سے بڑی فریب کاریاں کیں جب کہ اللہ کے پاس ان کے ہر فریب کا توڑ تھا، اگرچہ ان کی مکّارانہ تدبیریں ایسی تھیں کہ ان سے پہاڑ بھی اکھڑ جائیںo (سورۃ إبراہیم، آیت 14/ 46) ۔۔۔۔۔۔ پس (اے منافقو!) تم سے توقع یہی ہے کہ اگر تم (قتال سے گریز کر کے بچ نکلو اور) حکومت حاصل کر لو تو تم زمین میں فساد ہی برپا کرو گے اور اپنے (ان) قرابتی رشتوں کو توڑ ڈالو گے (جن کے بارے میں اللہ اور اس کے رسول ﷺ نے مواصلت اور مُودّت کا حکم دیا ہے)o یہی وہ لوگ ہیں جن پر اللہ نے لعنت کی ہے اور ان (کے کانوں) کو بہرا کر دیا ہے اور ان کی آنکھوں کو اندھا کر دیا ہےo (سورۃ محمد، آیت 47/ 22-23) ۔۔۔۔۔ احادیث مبارکہ ھے کہ ۔۔۔۔۔۔۔ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جب امانتیں ضائع ہونے لگیں تو قیامت کا انتظار کرو۔ پوچھا گیا: یا رسول اللہ! امانتوں کے ضائع ہونے کا مطلب کیا ہے؟ فرمایا: جب اُمور نااہل لوگوں کو سونپے جانے لگیں تو قیامت کا انتظار کرو۔ (اِس حدیث کو امام بخاری، احمد اور ابن حبان نے روایت کیا ہے۔)۔۔۔حافظ ابن حجر عسقلانی فتح الباری میں بیان کرتے ہیں: ’اَمر‘ سے مراد وہ تمام اُمور ہیں جن کا تعلق ( بالواسطہ یا بلاواسطہ کسی نہ کسی طور پر ) دین سے ہو، جیسے حکومت و سلطنت (صدارت، وزارتِ عظمیٰ، وزارتِ علیا، گورنری اور عمومی وزارتیں)، عدلیہ اور شرعی افتاء وغیرہ ۔۔۔۔۔۔۔ حضرت عبد اللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا: بے شک اللہ تعالیٰ برائی اور فحش گوئی کو ناپسند کرتا ہے۔ اور اُس ذات کی قسم، جس کے قبضۂ قدرت میں (حضرت) محمد ( ﷺ ) کی جان ہے! قیامت اس وقت تک نہیں آئے گی جب تک امانت دار کو خیانت کرنے والا اور خیانت کرنے والے کو امین نہ قرار دیا جائے اور یہاں تک کہ فحش گوئی، قطع رحمی اور بری ہمسائیگی ظاہر نہ ہو جائے۔۔۔ اس حدیث کو امام اَحمد، عبد الرزاق، بزار اور حاکم نے روایت کیا ہے۔ امام حاکم نے فرمایا: اس حدیث کی اسناد صحیح ہے ۔۔۔۔۔۔ معزز قارئین!! موجودہ پاکستان کو ان آیتوں اور احادیث کے تناظر میں دیکھ کر جب لکھتا ھوں تو میرے کئی صحافی دوست ان حکمرانوں کے تحفظ میں کھڑے نظر آتے ہیں اس لیئے اس کالم میں قرآن و احادیث شامل کی ھیں تاکہ انہیں بھی احساس ھوجائے کہ وہ صحافت کررھے ہیں یا وکالت ۔۔۔ چند روز قبل پاکستان کی حکومتی سطح پر پچھترویں سالگرہ کا انعقاد ھوا جس میں بے دریغ قومی خذانے کو نوچا گیا کیونکہ جو پروگرام مرتب کیئے گئے ان میں بیشتر میراثی انداز اپنائے گئے۔ تقریبات میں تقریباً متحدہ قومی حکومتی جماعت کے سب ہی سیاستدانوں نے شرکت کرکے اپنی نمائندگی پیش کیں۔ جس طریقے سے بیہودہ رقص و سرور کی محفل سجائی گئیں بڑے بڑے دین کے سیاسی  ٹھیکیداروں نے تالیاں بجاکر ہمت افزائی کا مظاہرہ پیش کیا کاش یہ وہاں بضد ھوجاتے اور کہتے کہ قرآن خوانی محفل قرأت اور دعاؤں کی محافل سجا کر شہید پاکستان اور ریاستِ پاکستان کی سلامتی خوشحالی اتحاد و اتفاق کیلئے دعائیں بلند کی جائیں اس عمل میں خرچہ بھی کم تھا اور برکتیں رحمتیں راحتیں بیشمار تھیں۔ میں کئی بار مصدقہ طریقے سے لکھ چکا ھوں کہ پاکستان کے حکمران سربراہان مملکت اونجڑے کونجڑے میراثی خاندان کے قابض ہیں اور جو اقتدار سے محروم ہیں وہ بھی آنے کے پر تول رھے ہیں میرے معزز قارئین مجھ سے کہیں زیادہ اس حقیقت کو سمجھتے اور جانتے ہیں انہیں معلوم ھے کہ اب پاکستان کی سیاست میں یہ مکمل مافیا کے طور پر کردار ادا کررھے ہیں۔ پاکستانی معاشرے کا یہی خاندانِ اشرفیہ اور نوکر شاہی طبقہ ناسور کینسر بن گیا ھے۔ آپ سب اچھی طرح جانتے ہیں کہ کینسر جہاں پیدا ھوجائے اسے کاٹ کر نکال باہر پھینک دیا جاتا ھے۔ ان کینسروں میں ہر بڑی جماعت شامل ہیں مذہبی اور غیر مذہبی بھی ان کے علاوہ چھوٹے چھوٹے کینسر چھوٹی جماعتوں کی شکل میں ھیں گوکہ ان پچھہتر سالوں میں پاکستان مکمل کینسر شدہ ھوچکا ھے ۔۔۔۔۔۔۔ معزز قارئین!! واقعی شیطان ابلیس بہت بڑا خبیث ھے مگر یہ جان کر میں بھی دم انگشت رہ گیا یہ جان کر کہ خبیث ابلیس انہیں اپنا گروہ مانتا ھے اور انہی کی اطاعت کرکے خوش ھوتا ھے سوچیں آپ کن لوگوں کو اپنا حکمران و سربراہ بنا کر سر پر بیٹھاتے رھے ہیں۔ درحقیقت یہ پاکستانی سیاستدان و حکمران اپنی سیدھی سادھی بے وقف و بے شعور قوم کو بآسانی برین واش کرکے اپنی خباثت غلاظت کا شکار بآسانی بنا لیتے ہیں کچھ کو جذبات میں بہاتے ہیں کچھ کو بریانی کی ایک پلیٹ پر خوش کردیتے ہیں تو کچھ کو چند سکوں کے عوض خرید لیتے ہیں یہ سلسلہ اس وقت تک جاری رہیگا جب تک قوم خود کو بدلنے کا عہد نہ کرے ملک کو بچانا ھے تو عوام کو بیدار ھونا پڑیگا اپنی ریاست کیساتھ شانہ بشانہ قدم بڑھانا ھوگا کیونکہ یہ سب سیاستدان بہروپیئے دوغلے جھوٹے مکار و عیار اور بدکردار ہیں اور انھوں نے عوام میں مایوسی کے سوا کچھ نہیں دیا اگر ان کا کردار شفاف ھوتا تو یہ مرجاتے مگر جھوٹ ہرگز ہرگز ہرگز نہیں بولتے۔ جھوٹا انسان نہ مسلمان اچھا ھوتا ھے نہ ہی اچھا انسان۔ اللہ نے جھوٹوں پر ہمیشہ لعنت بھیجی ھے تو جو قوم لعنتیوں کو لاتے رہیں گے تو خود بھی اللہ کی لعنت کا شکار ھوتے رہیں گے۔ اب سوچنا سمجھنا اس قوم کو خود ھے ایک طرف دینِ اسلام دوسری طرف یہ سب سیاستدان جو دین سے دور نا بلد دھوکے باز ہیں یہ صرف دین کو فروخت کرنے والے ہیں دین کے خدمتگار نہیں۔ یاد رھے کہ پی پی پی۔ پی ایل ایم این۔ جے یو آئی۔ پی ٹی آئی۔ اے این پی۔ ایم کیو ایم۔ پی ایل ایم قاف۔ ٹی ایل پی۔ جے آئی یوں اس طرح پاکستان کی جمہوری سیاسی و دینی جماعت اس قابل ہی نہیں کہ انہیں اقتدار سونپا جائے۔ انتخابات غیر جماعتی بنیادوں پر ھونا اب وقت کی شدید ضرورت ھے۔ غیر جماعتی انتخابات سے ھمیں نیک ایماندار دیانتدار محب وطن خاندانی شرفاء مل سکیں گے اور ھم اپنے ایوان کو حقیقت میں مقدم و معتبر دیکھ سکیں گے۔ آئین و قانون کی رٹ نظر آئیگی اور ملکی نظام آہستہ آہستہ دین اسلام کی طرف واپس لوٹتا نظر آئیگا۔ صدارتی و وزیراعظم و وزراء و مشراء کی محافل غیر اخلاقیات سے پاک نظر آئینگی۔ صحافت سے ضیافت اور میڈیا مالکان خدا سے بندے نظر آئینگے یہ سب کچھ ممکن ھوسکتا ھے کہ جب ریاست عدالت اور الیکشن کمیشن قومی انتخابات کو غیر جماعتی بنیاد پر کرائے میں صرف دعا اور مشورے رائے تجزیے دے سکتا ھوں باختیار مقتدر قوتیں ہی پاکستان کی بہتری بھلائی کیلئے قدم اٹھاسکتے ہیں یہ حقیقت ھے کہ موجودہ سیاسی ڈھانچہ اس ملک کیلئے کینسر بنا ھوا ھے مکمل نظام کا تبدیل ھونا ناگزیر بن چکا ھے یہی نظام رھا تو میرے منہ میں خاک یہ ملک نا تلافی نقصان سے شدید دوچار ھوگا اسی لیئے ملک بچانے کیلئے موجودہ نظام کا خاتمہ لازم ھے۔ اللہ پاکستان کو اپنے اندر کے دشمنوں سے محفوظ رکھے آمین۔۔۔۔ قائداعظم زندہ باد۔ پاکستان پائندہ باد۔۔۔۔!!

0/Post a Comment/Comments