main header

newspaper

href="https://aghazeinqilabnews.blogspot.com/p/10-04-2023.html">

سیلاب کی تباہ کاریاں جاری‘ہلاکتوں کی تعداد 1136 تک پہنچ گئی


 اسلام آباد(آغازانقلاب ڈیسک) خیبر پختون خوا اور بلوچستان سمیت ملک بھر میں سیلاب کی تباہ کاریاں جاری ہیں، گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران 75 افراد جان کی بازی ہار گئے، جس کے بعد مرنے والوں کی مجموعی تعداد 1136 تک پہنچ گئی ہے۔نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ (این ڈی ایم اے) کی جانب سے جاری کردہ اعداد وشمار کے مطابق سیلابی ریلوں پھنسے اور مختلف علاقوں سے ریسکیو کیے گئے افراد کی تعداد 51 ہزار 275 ہوگئی ہے جس میں سے 1634 افراد زخمی ہیں۔رپورٹ کے مطابق بارشوں اور سیلاب کے دوران اب تک 162 پلوں کو نقصان پہنچا ہے، 72 اضلاع بری طرح متاثر ہوئے جب کہ 10 لاکھ 51 ہزار سے زائد مکانات ملیامیٹ ہوگئے اور مجبوعی طور پر 3 کروڑ 30 لاکھ 46 ہزار سے زائد افراد براہ راست سیلاب سے متاثر ہوئے ہیں۔این ڈی ایم اے کا کہنا ہے کہ سیلاب اور بارشوں کے باعث مرنے والے موشیوں کی تعداد 7 لاکھ 35 ہزار سے زائد ہے۔دوسری جانب دریاں اور بیراجز میں خطرناک سیلاب صورتحال تاحال برقرار ہے، ارسا نے ڈیرہ غازی خان، لیہ اور راجن پور میں مزید سیلاب کا خدشہ ظاہر کیا ہے۔انڈس ریور سسٹم اتھارٹی کی جانب سے دریاں اور بیراجز میں پانی کے بہا اور سیلابی صورتحال سے متعلق تازہ اعداد و شمار جاری کیے گئے ہیں جس کے مطابق دریائے کابل میں انتہائی اونچے درجے کا سیلاب تاہم پانی کا بہا کم ہے۔ارسا کے جاری اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ دریائے کابل میں پانی کا بہا 2 لاکھ 58 ہزار 300 کیوسک ہے۔انڈس ریور سسٹم اتھارٹی کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ تونسہ بیراج میں بہاو مزید بڑھ گیا اور دریائے سندھ میں تونسہ کے مقام پر بھی انتہائی اونچے درجے کا سیلاب ہے۔ارسا کے مطابق تونسہ سے اس وقت 6 لاکھ 22 ہزار 100 کیوسک کا ریلہ گزر رہا ہے جب کہ گزشتہ روز 5 لاکھ 58 ہزار کا ریلہ گزر رہا تھا۔حکام کا کہنا ہے کہ ڈیرہ غازی خان، لیہ، راجن پور میں مزید سیلاب کا خدشہ ہے جب کہ گدو اور سکھر بیراجز پر بھی اونچے درجے کا سیلاب ہے، گدو بیراج پر پانی کا بہاو بڑھ کر 5 لاکھ 12 ہزار کیوسک ہے، اسی طرح سکھر بیراج پر پانی کا بہاو 5 لاکھ 30 ہزار 800 کیوسک ہے۔

0/Post a Comment/Comments